Aik Gharib Momin ke Hajj ka ajeeb waqiya - SaimWrites

Aik Gharib Momin ke Hajj ka ajeeb waqiya - SaimWrites  

Aik Gharib Momin ke Hajj ka ajeeb waqiya - SaimWrites


پرانے وقتوں کی بات ہے عراق کے ایک شخص نے حج کا ارادہ کیا جس کے لیے اس نے دن رات محنت مزدوری کر کے حج کے لیے اس نے رقم جمع کی آج کے دور کی طرح اس وقت بھی لوگ قافلے کی صورت میں روانہ ہوتے تھے قافلے کے افراد کو جمع کرنے کے لیے ایک انتظار کا بنائی گئی تھی اس کے گھر سے کچھ ہی دور تھی روانگی کے روز یہ شخص گھر والوں سے ودا لے کر نکلنے لگا ابھرتے جذبات میں سب کے آنسو نکل آئے اور سب نے اسے دعاؤں اور نیک خواہشات کے ساتھ رخصت کیا اس شخص کے گھر اور انتظار گاہ کے درمیان ایک جنگل پڑتا تھا. یہ شخص تیز تیز قدم اٹھاتا جا رہا تھا کہ جنگل سے کچھ پہلے ایک گھر سے اچانک ایک خاتون اور بچوں کے ر اسے چونکا دیا ان آوازوں میں اتنا درد تھا کہ اسے رہ نہیں گیا وہ گھر کے قریب جا کر کان لگا کر کھڑا ہو گیا تو اس نے سنا کہ وہ خاتون رو بھی رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بچوں سے کہہ بھی رہی تھی کہ بیٹا آج میرے پاس تمہیں کھلانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے جو کچھ تھا وہ کل رات ہی ختم ہو گیا تھا بچے بھوک اور پیاس کی شدت سے بلک بلک کر رو رہے تھے اور دوسری طرف کسی غیبی مدد کا منتظر تھا آخرکار اس شخص نے آسمان کی طرف نگاہیں کیں اور اپنے ہاتھ بلند کر کے اللہ تعالی سے کہنے لگا یا اللہ آج میں آج میں عجیب دوراہے پر کھڑا ہوں کہ ایک طرف تیری عظیم عبادت ہے اور دوسری طرف یہ بے بس خاندان ہے نہ میں تیری عبادت چھوڑ سکتا ہوں اور نہ ہی ان لوگوں کو اس حال میں چھوڑ سکتا ہوں اے میرے پروردگار تو یہ حکمت والا ہے تو ہی میری رہنمائی کر کہ میں کیا کروں اور اگلے ہی لمحے اس شخص نے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا خاتون نے دروازہ کھولا تو یہ شخص بولا بی بی میں نہیں جانتا کہ تم لوگ کون ہو میں بس ادھر سے گزر رہا تھا تو تمہارے رونے کی آواز نے مجھے رکنے پر مجبور کر دیا میں نے تمہاری ساری باتیں سن لی ہیں یہ لو میرے پاس کچھ پیسے اور کھانے کی چیزیں ہیں ان سے اپنے اور اپنے بچوں کے کھانے پینے کا بندوبست کر لو وہ خاتون اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ اور روتے ہوئے بولی اے اجنبی پچھلے دنوں میرے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا۔ تبھی سے ہم پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں۔ آپ کی بہت بہت مہربانی جو آپ نے ہم غریبوں پر اتنا رحم کیا اللہ آپ کی دلی مراد پوری کرے حج سے زیادہ اس شخص کی دلی مراد کیا ہوگی لیکن حج پر جانے کے لیے جو سرمایہ چاہیے تھا وہ تو اس نے راہ خدا پر قربان کردیا تھا یہ شخص نہ واپس جا سکتا تھا کہ گھر والے کیا سوچیں گے کہ حج کے بغیر واپس آ گیا. چنانچہ وہ شخص جنگل میں چھپ کر بیٹھ گیا اور حج کے دنوں کے گزرنے کا انتظار کرنے لگا. کچھ دنوں بعد جب حج کے دن گزر گئے اور قاف کہ لوگ جنگل کے راستے اپنے اپنے گھروں کو جانے لگے تو یہ شخص بھی چپکے سے اس میں شامل ہو گیا تبھی ایک شخص اس سے مخاطب ہو کر بولا جناب حج مبارک ہو میں نے آپ کو فلاں جگہ آب زم زم پیتے دیکھا تھا کچھ دیر بعد ایک اور شخص بولا میں نے آپ کو طواف کرتے ہوئے دیکھا تھا اور ایک اور شخص بولا میں نے آپ کو شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا تھا غرض یہ کہ ہر ایک حاجی اس کی موجودگی کی دلیل دینے لگا یہ شخص جب گھر پہنچا تو گھر والوں نے بھی خوب استقبال کیا اور حج کی ڈھیر ساری مبارکباد دی لیکن یہ شخص اندر ہی اندر پریشان تھا کہ میں تو حج پر گیا ہی نہیں تھا تو کیوں وہاں پر موجود حاجی میرے وہاں موجود ہونے کی دلیلیں دے رہے تھے۔ ماجرا سمجھ سے باہر تھا۔ اسی سوچ میں اس شخص کو نیند آ گئی۔ اور وہ سو گیا۔ خواب میں اسے بشارت ملی۔ کہ عینک دل انسان تم نے حج جیسی عظیم عبادت کو چھوڑ کر مخلوق خدا کی مدد کی ہے اس کے بدلے میں اللہ تعالی نے تمہاری شکل کے ایک فرشتے کو تمہاری جگہ بھیجا اور یہی نہیں بلکہ فرشتے کے حج کا سارا ثواب بھی تجھے ہی ملے گا تمہاری موجودگی کی دلیلیں دے رہا تھا۔ تو دوستو کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نیت کو دیکھتا ہے۔ بے شک عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو نیک عمل کرنے اور مخلوق خدا کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آ مین 

Post a Comment

0 Comments