مانو اور مثبت سوچ

مانو اور مثبت سوچ

Hello Viewer This story is written for children so that children can get motivated and do their work with heart and we have kept this short story so that you don't get bored while reading it. I hope you will teach it to your children and share it further.

مانو اور مثبت سوچ


ایک دن کی بات ہے، ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام مانو تھا۔ مانو بہت خوش مزاج اور مثبت سوچ والا لڑکا تھا۔ وہ ہمیشہ لوگوں کی مدد کرتا اور ان کی مسائل حل کرنے میں مدد فراہم کرتا۔ اس کی دوست بھی اس کی مثبت سوچ اور دل کش طریقے سے متاثر ہوتےتھے۔

ایک دن، مانو کا دوست جیمی اُس سے مل کر بولا، "مانو، میری مدد کرو، میرے پاس اس وقت کوئی خوشی نہیں ہے۔" مانو نے جیمی کا ہاتھ پکڑا اور کہا، "جیمی، پہلے تو یہ بتاؤ کہ تم کس مثبت کے ساتھ اپنے مسائل کا سامنا کر رہے ہو؟"

جیمی نے ہلکی سی مسکراہٹ کےساتھ کہا، "تمہیں پتا ہے مانو، میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں بڑا ہو کر ڈاکٹر بنوں گا، لیکن میرے پاس ابھی تک ڈاکٹر بننے کے لئے راستے کا علم نہیں ہے۔"

مانو نے جیمی کو دیکھا اور مسکرا کر کہا، "جیمی، تمہیں یہ یاد رہے کہ مثبت سوچ سے کوئی بھی مشکل کام ممکن جاتا ہے۔ تم نے ہار ماننے کا فیصلہ کر لیا ہے، لیکن اگر تم مثبت سوچ سے کام لو، تو تم کامیابی کی راہوں پر قدم رکھو گے۔"

جیمی کی منہ پر خوشی کی مسکراہٹ آگئی اور وہ مانو کی سے بہت متاثر ہوا۔ اس دن کے بعد، جیمی نے مثبت سوچ کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا اور کئی مشکلات کا سامنا کیا۔ وہ محنت سے پڑھائی کرتا رہا اور ہمیشہ خوش رہنےلگا۔

سالوں بعد، جیمی نے اپنے خواب کو پورا کر لیا اور ایک معروف ڈاکٹر بن گیا۔ وہ لوگوں کے لئے علاج کر کے ان کی مدد کر رہا تھا اور اپنی مثبت سوچ کی وجہ سے وہ کامیابی کی بلندیوں تک پہنچا۔

مانو کی مثبت سوچ اور جیمی کی محنت نے ان کو کامیاب بنایا۔ یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مشکلات کا سامنا کرتے وقت ہمیں مثبت سوچ اور محنت سے ہار نہیں ماننی چاہئے۔ ہمیشہ اپنے خوابوں کا پیچھا کرنا چاہئے اور ان کو حقیقت بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ کام کرنا چاہئے اور مشکلات کے باوجود ہمیشہ محنت کرتے رہنا چاہئے۔ اگر ہم اپنے خوابوں کو سختیوں کے باوجود حاصل کرنے کی کوشش کریں، تو ہمیں ضرور کامیابی ملتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments